تازہ ترین :
logo
پیر‬‮   9   دسمبر‬‮   2019

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے ِ

الم ﴿۱﴾یہ کتاب (قرآن مجید) اس میں کچھ شک نہیں (کہ کلامِ خدا ہے۔ خدا سے) ڈرنے والوں کی رہنما ہے ﴿۲﴾ جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں ﴿۳﴾ اور جو کتاب (اے محمدﷺ) تم پر نازل ہوئی اور جو کتابیں تم سے پہلے (پیغمبروں پر) نازل ہوئیں سب پر ایمان لاتے اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں ﴿



موبائل کمپنیوں سے ایڈوانس بیلنس لیناجائز ہے یاسودکے زمرے میں آتاہے؟ جانیے

میرا رجحان یہ ہے کہ یہ سود کے زمرے میں نہیں آتا ہے ،جس کے دو بنیادی سبب ہیں۔ 1۔پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ اضافی رقم کمپنی کے سروس چارجز اور حکومتی ٹیکس ہوتا ہے جو وہ ایزی لوڈ اور کارڈ لوڈ پر بھی کاٹ لیتے ہیں۔آج کل اگر 100 روپے کا کارڈ لوڈ کریں تو 75 روپے آتے ہیں،اب کیا ہم یہاں بھی یہ کہیں گے کہ کمپنی نے 75 دے کر ہم سے 100

روپے لئے ہیں۔یہاں ایسا کوئی بھی نہیں کہتا ہے،ہر کوئی یہی سمجھتا ہے کہ یہ حکومتی ٹیکس اور سروس چارجز ہیں جو ہر کارڈ کے ساتھ ساتھ ہر کال پر بھی کٹتے رہتے ہیں اور یہ ایسے اصول ہیں جو سم لیتے وقت ہی کمپنی آپ کو بتا دیتی ہے کہ ہم ان ان شرائط پر آپ کو اپنی کمپنی کی سروس مہیا کریں گے،اور ہم کمپنی کی ان شرائط کو نہ صرف قبول کرتے ہیں بلکہ تحریری معاہدہ بھی کرتے ہیںکہ ہم کمپنی کی تمام شرائط سے متفق ہیں۔ 2۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہم نے کمپنی سے نقد رقم نہیں لی ہوتی بلکہ ایک سروس اور خدمت لی ہوتی ہے ،جس کے چارجز ہم خدمت کے حصول کے بعد ادا کرتے ہیں۔(جبکہ کارڈ یا ایزی لوڈ میں پہلے ہی ادا کر دیتے ہیں۔)اب اس کو سود کیسے کہا جا سکتا ہے۔سود تو یہ ہے کہ نقدی رقم کے بدلے میں ہم زیادہ رقم ادا کر یں،یہاں تو ہم نے نقدی رقم لی ہی نہیں ہے۔اور پھر یہ بھی یاد رہے کہ یہ سروس چارجز ایزی لوڈ اور کارڈ پر کاٹے گئے چارجز سے کم ہیں۔فرق صرف تقدیم وتاخیر کا ہے۔(فتویٰ محدث کمیٹی)



اس وقت سب سے زیادہ مقبول خبریں


           

دلچسپ و عجیب


تازہ ترین خبریں